معاشرتی برائیاں اور ان کا سد باب.تحریر: عمران خان رند بلوچ 81

دوست بنانے کے حقیقی معیار کیا ہیں؟

تحریر: عمران خان رند بلوچ
ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی میں سب سے ناکام ترین انسان وہ ہے جو پیسے نہ کما سکتا ہو،جس کے پاس دولت ،شہرت نہ ہو اور جس کے پاس پیسے ہوں اور وہ پیسے گنوا بیٹھا ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو بہت ہی نکما شخص ہے۔

لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔ نکما شخص وہ ہے جو دوست نہ بنا سکا ہو اور اس سے بھی ناکام اور ضعیف ترین وہ شخص ہے جو دوست بنا کر اسے کھو بیٹھے۔
محترم قارئین دوست بھی زندگی میں بہت ضروری ہیں لیکن ہمارا دوستی کا معیار ایسا نہیں ہوتا جیسا کہ ہونا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دوست ایسا ہو جو مجھے زندگی میں کہیں کام آئے۔ کبھی پیسوں کی ضرورت ہو تو وہ پیسے وار دے۔
ہمیں عموماً زندگی میں کئی مواقع پر بہت سے ایسے لوگ مل جاتے ہیں جنہیں ہم دوست سمجھنے لگتے ہیں۔ کوئی سکول میں ہم جماعت ہوتا ہے ،کوئی کسی لمبے سفر کے دوران مل جاتا ہے کوئی کسی پارٹی میں مل جاتا ہے کوئی کسی کی شادی میں گپ شپ کے دوران دوست بن جاتا ہے۔کسی کو کسی سماجی رابطے کی سائٹ پر دوست مل جاتا ہے۔ انہی دوستوں کی وجہ سے آپ کی پہچان ہوتی ہے اگر دوست برے ہوں گے تو آپ بھی برے بن جاتے ہیں۔ جیسی محفل میں آپ جائیں گے آپ ویسے ہی جانے جائیں گے۔ 
دراصل دوست “اکتساب” کا نام ہے ،یعنی جسے محنت اور مشقت سے حاصل کیا گیا ہو۔ جسے حاصل کرنے کےلیے محنت کی گئی ہو وہ ہی حقیقی معنوں میں دوست ہے۔
مولانا رومی نے اک قصے میں بیان فرمایا ہے کہ کہیں اک کوے اور بگلے کی دوستی تھی۔ دونوں آپس میں مل جل کر رہتے تھے ۔بظاہر ان دونوں کا آپس میں جوڑ بھی نہیں ہوتا کوا کالے رنگ کا ہوتا ہے اور بگلا سفید اور دونوں کا مسکن بھی الگ الگ ہے۔ اک جنگلوں میں رہتا ہے جبکہ دوسرا دریائی ہے۔ اک حکیم نے جب ان کو دیکھا تو اس کے ذہن میں اک سوال اٹھا کہ یہ دو الگ قسم کی موجودات و مخلوقات کیسے آپس میں مل جل کر رہتی ہیں ۔ اس حکیم نے ان دونوں کو نظر میں رکھا اور قریب سے دیکھا تو کہا کہ ان دونوں میں اک صفت مشترک پائی جاتی ہے کہ ایک ٹانگ سے دونوں لنگڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کی دوستی اور قربت کی۔
اسی وجہ سے جو جس سے بھی دوستی رکھتے ہیں ضرور ان دونوں میں کوئی اک چیز مشترک پائی جاتی ہے۔ 
مومن کسی منافق کا دوست بنا ہوتا ہے ضرور ان میں کوئی چیز مشترک ہوتی ہے کوئی مفاد ہوتا ہے جس کی بنا پر دوستی قائم ہوئی ہوتی ہے۔
قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” قیامت کے روز انسان کہے گا کہ اے کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا” 
ہماری دوستی کا معیار اتنا ہی ہے کہ کسی کو اپنے فائدے کےلیے دوست بنا لینا یا کسی اور لالچ کی وجہ سے دوستی کا نام دینا۔ درحقیقت یہ دوست نہیں ہوتے۔
درحقیقت اسلامی و دینی اصول یہ ہے کہ کسی کو تب تک دوست کا درجہ مت دینا جب تک اسے تین چیزوں میں آزما نہ لو۔ 
سب سے پہلے جس کو آپ دوست بنا رہے ہو اسے غصہ دلاؤ۔ پھر یہ دیکھیں کہ آیا کہ وہ غصے کی حالت میں اپنے آپ کو کنٹرول کرتا ہے؟ کیا وہ آپ کو مارنا پیٹنا شروع کر دیتا ہے ؟ حق و باطل کو سمجھتا ہے یا نہیں؟ ایمان کے دائرے میں رہتا ہے کہ نکل جاتا ہے؟کیا آپ کو گالم گلوج کرتا ہے؟ اگر وہ یہ سب کرتا ہے تو وہ آپ کا دوست نہیں آپ اسے دوست کا نام نہیں دے سکتے اگر وہ غصے کو پی جاتا ہے اور معاف کر دیتا ہے تو پھر آپ اسے دوسے کہ سکتے ہیں۔
دوسرا آپ اس کو چند پیسے دے کر دیکھیں، اس کے ساتھ حساب کتا ب کریں یا امانت رکھوا کر دیکھیں ۔ اگر اس نے خیانت کر دی تو سمجھیں دوستی کے قابل نہیں۔
تیسرا اس کے ساتھ سفر کریں اس کے ساتھ کیونکہ سفر میں بھی شخصیت کھل جاتی ہے۔ آپ دیکھیں کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے کے قابل ہے کہ نہیں۔ کسی سے کوئی جھگڑا ہو جاتا ہے تو وہ ساتھ چھوڑ کر بھاگ تو نہیں جائے گا۔
قارئین دوست زندگی کی زینت ہوتے ہیں،دوست اسے بنانا چاہیے جو ہماری زینت بنے نہ کہ ہم اس کی زینت بنیں۔ ہماری دوستی کا معیار انہی اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلامی اور دینی اصول ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں