دلیری کی قیمت نگارش من میاں محمد عظیم 103

دلیری کی قیمت نگارش من میاں محمد عظیم

پہلے ہمارے اکثر دیہاتوں میں چوہدری سسٹم یا کچھ علاقوں میں وڈیرہ سسٹم ہوتا تھا میرا تعلق سنٹرل پنجاب سے ہے تو وہاں اب کافی حد تک یہ نظام اپنی موت آپ مر چکا ہے یا مر رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب یا سندھ میں آج بھی اسی زور شور سے چل رہا ہے گاوں میں ان چوہدریوں کا کردار پورے گاوں کے مالک سا ہوتا تھا جس میں جیرا بشیرا فلاں فلاں ان کی چلم بھرائی کا کردار کرتے فیکہ گاما ماجا ان کے لیے کسی سے لڑنا ہوتا تو مارنے اور مار کھانے کا کام کرتے بدلے میں چوہدری کبھی کبھار ان کی مرہم پٹی کے لیے امداد کر دیتے امداد کے بعد ان پر احسان بھی جتاتے کہ دیکھ لو ہم تمھارا کتنا خیال رکھتے ہیں اور ساتھ ہی جیب سے تھوڑے پیسے اور نکال کر دے دیتے کہ یہ بھی رکھ لو جب ہوں گے تو لٹا دینا بس پھر کیا تھا گاما ماجا فیکہ بشیرا سب چوہدری کے لیے مار بھی کھاتے اس سے امداد بھی لیتے اور ساتھ چوہدری کے قرضے تلے بھی دبتے جاتے لیکن کسی کی ہمت نہ ہوتی چوہدری کے آگے آواز اٹھانے کی یا اس کے کرائے کے غنڈوں کا کردار نہ نبھانے کی اگر کوئی بندہ ان چوہدریوں کے خلاف جاتا تو یہ لوگ اس کا پورے گاوں سے خقہ پانی بند کروا دیتے چوہدریوں کے ڈر سے گاوں کا ہر بندہ اس بندے سے لین دین نہیں کر سکتا تھا یوں اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو گاوں کا چوہدری دبا دیتا دنیا اب گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے آج سے چند سو سال پہلے جنگیں تلواروں سے تیروں سے یعنی اپنے زور بازوں سے لڑی جاتی تھیں جس میں مقابل کو سامنے سے آ کر ایک دوسرے پر حملہ کرنا ہوتا تھا لیکن اب خالات بدل چکے ہیں اب جنگیں بھاری اسلحوں یا بھاری معشیت کے ساتھ لڑی جاتی ہیں چھوٹی چھوٹی معشیت والے ملک تو اس کا سوچ بھی نہیں سکتے آج سے بیس سال پہلے جب نائن الیون کا واقع ہوا تو جنرل مشرف کی حکومت تھی تو امریکہ چوہدری جو اپنی طاقت کے نشے میں چوور تھا اس نے نائن الیون کا بدلہ لینے کی ٹھان لی اور افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن کو ملزم ٹھہرا کر اس کے خلاف اعلان جنگ کا اعلان کر دیا بس اس وقت امریکہ چوہدری کو گامے ماجے جیرے کی ضرورت پڑ گئ جو ان کے لیے خقہ بھی بھرے اور ساتھ مارنے اور مار کھانے کے لیے بھی تیار ہو اس وقت بھارت بھی یہ سہولت دینے کے لیے تیار بیٹھا تھا لیکن یہ رول دینے کے لیے پاکستان کے سربراہ جنرل مشرف نے خامی بھر لی اور یوں ہم گامے ماجے کی طرح روز مار مارتے بھی اور کھاتے بھی اپنے ملک میں روزانہ لاشیں بھی اٹھاتے اور امریکہ چوہدری آ کر ہمیں امداد کے نام پر ڈالر دیتا جس سے تو ہماری مرہم پٹی کا بھی بل بھی پورا نہ ہوتا اور یوں ہمیں بیگانی جنگ لڑنے کے دوران باقی نقصان پورا کرنے کے لیے ہم قرض لے لیتے یوں ہم خوش ہو جاتے کہ ہم امریکہ سے بہت پیسا لے رہے ہیں لیکن اس سارے نقصان کا اندازہ اب جا کر چل رہا ہے اس کے بعد نواز شریف اور زرداری کی حکومتوں نے بھی یہی کردار ادا کیا امریکہ سے امداد لو اس کے حصے کی مار کھاو پھر مرہم پٹی لگوانے کے لیے قرضے لو اور خوش ہو جاو عوام کو دھوکے میں رکھو لیکن ایک ایسا مرد مجاہد بھی تھا جو پچھلے بیس سال سے چوہدری امریکہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا جو پاور میں تو نہ تھا لیکن امریکیوں کو بتا رہا تھا کہ اب کی بار آپ کو بہت مار پڑنے والی ہے اور پاکستانی حکمرانوں کو بتا رہا تھا کہ آپ جو کردار ادا کر رہے ہیں اس سے اپنے ہی خاندان گھر کو تباہ کر رہے ہیں یہاں تک اپوزیشن میں ہونے کے باوجود بھی اس شخص نے عملی طور پر نیٹو سپلائی کو بند کر کے دکھایا اس مقام پر اختجاج کیا لوگوں کی کی غیرت جگانے کی کوشش کی لیکن سب اس عظیم انسان کو اس وقت علیحدہ علیحدہ القابات سے نوازتے کوئی طالبان خان کہتا کوئی کچھ کہتا جی بلکل میں عمران خان کی بات کررہا ہوں لیکن وقت ایک سا نہیں رہتا اللہ پاک نے دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں عوام کے ووٹوں کی طاقت سے عمران خان کو پاکستان کا وزیراعظم بنا دیاخالانکہ الیکشن والے دن جب پتا چل گیا کہ عمران خان کی حکومت واضع اکثریت سے بن رہی ہے تو راتوں رات بہت سے رزلٹ چینج کروا دیے گے تا کہ عمران خان طاقتور وزیراعظم نہ بن سکے اور گانے ماجے کا کردار ادا کرتا رہے لیکن کچھ لوگ ازل سے ہی بہادر اور اپنی بات کے پکے ہوتے ہیں ان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہم تعداد میں کتنے ہیں تین سو تیرہ ہیں یا ہزاروں اس کے لیے بس قوت ایمانی کا مظبوط ہونا بہت ضروری ہے بس عمران خان بھی انہی میں سے ایک ہے جو سچ کے لیے ڈٹ جاتا ہے چاہے اس کا نقصان ہو یا فائدہ کیونکہ وہ یہ سب کچھ اپنے زاتی مفاد کے لیے نہیں اس قوم کی عزت و توقیر کے لیے کر رہا ہے عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد ہی چوہدری امریکہ کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی اور اسے افغانستان سے نکل جانے کا مشورہ دیا جو کہ عمران خان کے پچھلے بیس سال سے چلے آ رہے موقف کا ہی تسلسل تھا امریکہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ عمران خان کی یہ بات سمجھ چکا تھا کیونکہ اسے بھی افغانستان میں ہزیمت اور شکشت کا سامنا تھا اس لیے وہ بھی اس بات پر راضی ہو گیا کہ وہ افعانستان سے نکل جائے گا لیکن وہ پاکستان سے دوبارہ اڈے مانگ رہا تھا تا کہ وہ افغانستان سے نکلنے کے بعد بھی خطے میں موجود رہ کر اپنی چوہدراہٹ کا رعب قائم رکھ سکے لیکن صورتحال نے تبدیلی پوری شدت سے اس وقت محسوس کی جب عمران خان سے ایک امریکی اینکر نے یہ سوال کیا کہ آپ امریکہ کو اڈے دیں گے جس پر وزیراعظم عمران خان کا موقف دبنگ تھا انہوں نے بغیر لگی لپٹی لگائے فورا جواب دیا کہ absolutely not ہم کرائے کے قاتلوں کا کردار ادا نہیں کر سکتے ہاں ہم امریکہ کو افعانستان سے نکلنے کے لیے مخفوظ راستہ ضرور دے سکتے ہیں لیکن ہم. کسی کے جنگ نہیں لڑ سکتے اس موقع پر اینکر نے ایک سوال داغا کہ اس سے امریکہ آپ کی امداد بند کر دے گا اس پر بھی اس مرد مجاہد نے فورا جواب دیا ہمیں امداد کی ضرورت نہیں ہم امداد لے کر اپنی خودداری کا سودا نہیں ک رسکتے یہ جواب پوری دنیا کے لیے غیر متوقع تھا کہ ایک امداد لینے والا ملک کیسے اتنی دلیری دکھا سکتا ہے کیسے اتنا بڑا رسک اٹھا سکتا ہے لیکن فرق واضح تھا اب کی بار لیڈر شپ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ میں تھی یہ ایک بنیادی فرق تھا لیکن پھر سب نے دیکھا بھی پاکستان کے اس absolutely not کے جواب کے بعد افغانستان سے جلدی جلدی فوجیں نکالنے پر ہی ہی اپنی عافیت جانی پاکستان نے امریکیوں کو نکلنے کے لیے اپنے وعدے کے مطابق مخفوظ راستہ بھی دیا یہ بھی عمران خان کے موقف اور لیڈر شپ کی واضح جیت تھی اس پر مخالف سیاسی جماعتوں نے اسے حکومت کے خلاف استعمال بھی کیا دن رات پروپیگنڈہ کیا گیا لیکن عزتوں کا مالک تو اللہ ہے یہ پروپیگنڈہ بھی فورا ہی دم توڑ گیا لیکن یہ بھی وزیر اعظم عمران خان کے وعدے کا عملی نمونہ ہی تھا جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا تھا کہ میں نہ کبھی خود کسی طاقت ور کے سامنے جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا اس کے بعد سے امریکہ پاکستان پر مختلف خیلوں بہانوں سے پریشر بنانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے وہ پاکستان کو زور بازوں سے جنگ کے زریعے سے تو تنگ نہیں کر سکتا لیکن وہ خقہ پانی بند کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے وہ امداد روکنے کے نام پر پاکستان میں ڈالر کے نام روپے کی قدر گروا کر پاکستان میں مافیہ کے زریعے مہنگائی کا جن بے قابو کر کے عوام کو وزیراعظم پاکستان کے خلاف کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستانی عوام بھی اب سمجھ چکی ہے کہ ہم نے ماجے گامے کا کردار ادا نہیں کرنا ہم نے بھی چوہدری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی ہے غیرت کی روٹی کھانے کے لیے محنت بھی کرنی پڑتی ہے اور ارد گرد کے لوگوں کی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں اس لیے اب پاکستانی عوام عمران خان کے absolutely not کے ساتھ نہ صرف کھڑی ہے بلکہ ہر مشکل گھڑی میں اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہے ابھی قوم پر مشکل وقت بھی آ سکتے ہیں لیکن پاکستانیوں کو اب کسی سیاسی جماعت کے کارکن بن کر نہیں قوم بن کر سوچنا ہو گا وزیراعظم عمران خان اب خودداری کی جانب قوم کو لے کر جا رہے ہیں بہت جلد ہم آئی ایم ایف جیسے قرض دینے والے تمام اداروں سے بھی جان چھڑوانے جا رہے ہیں ہم اب گامے ماجے کی بجائے چوہدراہٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں اب ہم اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں اس کے لیے پہلے سے موجود چوہدری آپ کو مختلف طریقوں سے پریشان کریں گے لیکن ہمیں وزیراعظم عمران خان کے اس فقرے کو اپنانا ہو گا کہ سب سے پہلے ہم نے گھبرانا نہیں اس کے بعد دمیری دعا ہے اللہ پاک وزیراعظم عمران خان کے پاکستان کے لیے خودداری کی جانب بڑھتے اقدام کو منزل مقصود تک پہنچائے آمین اور آخر میں انجنئیر افتخار چوہدری صاحب کا زکر کرنا ضروری سمجھوں گا جو ہمارے استادوں کی جگہ ہیں ان کی قیادت میں pen4imran کے نام سے ایک تحریک شروع کی گئ ہے اور میں باقاعدہ طور پر اس ٹیم کا ممبر ہوں اس پلیٹ فارم سے ہم لوگوں تک سچ پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں گے لوگ پرنٹ میڈیا کو آج کے دور میں کمزور سمجھتے ہیں اس لیے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس کا استعمال کم کر رہے ہیں لیکن انشاءاللہ انجینئر افتخار چوہدری صاحب نے جو بیڑہ اٹھایا ہے اس کام کے لیے انشاءاللہ ہم ان کے شانہ بشانہ ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں