شکریہ ٹیم پاکستان / شاباش ویرات کوہلی تحریر / ذکاءاللہ محسن 123

شکریہ ٹیم پاکستان / شاباش ویرات کوہلی تحریر / ذکاءاللہ محسن

پاکستان بمقابلہ بھارت کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پہلا میچ دونوں جانب سے اپنی اپنی ٹیموں کو بھرپور اور زبردست انداز میں عوامی سپورٹ جوش اور ولولہ الگ سے میچ کی اہمیت کو بڑھا دیتا ہے ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں بھارت کا پلڑا بھاری اور پاکستان کی جیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کہ کیا اس بار پاکستان جیت پائے گا تبصرے اور تجزیوں کا بھی زیادہ جھکاو بھارت کی طرف نظر آتا ہے بھارت کے ڈیڑھ سو رنز اور ہمارے بیٹسمینوں کا ماضی یک بعد دیگرے آوٹ ہوکر پویلین کو لوٹ آنا یاد ماضی اتنی تلخ کہ ذہین کے کسی گوشے میں اپنی ہار کا “سین ” چلتا رہا مگر کہتے ہیں نا کہ کرکٹ ” بائی چانس ” گیم ہے تو آج ثابت ہوا کہ کرکٹ واقعی ایک بائی چانس گیم ہے بھارت کے مقابلے میں کمزور سمجھے جانے والی پاکستان کی ٹیم نے بنا کوئی وکٹ دئیے میچ جیت کر ایسا رنگ جمایا کہ بھارت کے ہاتھوں گزشتہ تمام ہارے ہوئے میچوں کی مایوسی کے بادل چھٹ گئے اور ہر چہرہ خوشی سے دمکتا ہوا دیکھائی دیا کہنے کو تو ایک میچ ہی تھا مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر کا تنازعے اور تین بڑی جنگوں کے علاوہ کشیدہ سرحدی حالات و واقعات اور دنیا بھر میں ایک دوسرے کے خلاف محاز آرائی نے دونوں ممالک کے کھیل کو بھی ایک ایسی جنگ میں تبدیل کر دیا ہے کہ کئی بار محسوس ہوتا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں کھلاڑی نہیں بلکہ پرتھوی اور غزنوی نامی میزائلوں کا مقابلہ ہے مگر کچھ بھی ہو دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کا یہ مقابلہ دنیا بھر کی دلچسپی کا باعث بھی بنتا ہے آج کرکٹ کے میدان میں پاکستان کی جیت ہوئی اور اس جیت کی ہمیں تھوڑی نہیں اشد ضرورت تھی مگر ویرات کوہلی کی سپورٹس مین سپرٹ نے میچ کی رونق اور خوشی کو دوبالا کر دیا پاکستانی کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ویرات کوہلی کسی دشمن ملک کا کھلاڑی نظر نہیں آیا اور میں یہ منظر دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ ” کشمیر کا مسلہ حل ہوجائے ” تو دونوں ممالک ایک اچھے ہمسائے کی طرح رہ سکتے ہیں دونوں ممالک ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ایک دوسرے کی ترقی و خوشحالی کا باعث بن سکتے ہیں ایک دوسرے پر محاز آرائی کرنے کی بجائے اپنی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں دشمنی سے بھلا پہلے کسی کا بھلا ہوا ہے جو ہم دونوں ملکوں کا ہوگا مفادات کی جنگ میں اندھے ہونے کی بجائے آنکھیں کھول کر اپنے اپنے ملک کی محرومیوں کو دور کرنے کی سوچ اپنائی ہوگی اور اسلحے کی دوڑ سے نکل کر معاشی ترقی کی دوڑ پر گامزن ہونا ہوگا تاکہ ہم بھی باقی دنیا کے شانہ بشانہ چل سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں