People and politicians 50

عوام اورسیاست دان

(تحریر : صادق خان ، پاک نیوز پوائنٹ )
اکثر یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ سیاست دان ووٹ لینے کے وقت آجاتے ہیں اورعوام کو منت سماجت کرکے اورجھوٹے وعدے کرکے چلے جاتے ہیں تب اس حلقے اورعلاقے کی غیورعوام ان پہ اعتمادکرکے ووٹ ڈالتی ہے اوروہ شایدانکا ہربارآخری اعتمادہوتا ہے
اورپھراکثروہی ہوتا ہے جوکہ ہربارہوتا ہے جب ایک سیاست دان سیلیکٹ ہوجاتا ہے تبھی وہ ہی عوام کی بنیادہلانے لگتا ہے صرف بات کیا ہے کہ ہم سیاست دان کو کوئ اجنبی مخلوق سمجھ کرپروٹوکول ہی اتنا زیادہ دیتے ہیں کہ فاصلے بڑھ جاتے ہیں تبھی سیاست دان اپنے آپ کو کوئ چیزسمجھنے لگ جاتے ہیں اورعوام کو مختلف طریقوں سے ذلیل وخوارکرتے ہیں
حیرت کی بات ہوتی ہے یہ الفاظ لکھتے ہوئے عوام کے بغیر ایک سیاست دان کی اتنی اوقات ہی نہیں ہوتی شاید وہ اپنا دفاع کرسکے پر عوام سے ووٹ لے کر وہ اپنی اوقات بھول جاتے ہیں اورعوام کومختلف بہانوں سے ذلیل وخوارکرتے ہیں
کون سیاست دان ??
وہ سیاست دان جو کہ عوام سے ترقیاتی کاموں کے منصوبوں کے وعدے کرکے آیا تھا لیکن اب وعدوں کے جھوٹے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے
اب وہ ترقیاتی کاموں کی ابتدا کچھ اس طرح کرتا ہے
پہلے مختلف چوری کرواتا ہے تاکہ اس سلسلے میں لوگ ان کے پاس آئیں گے اورپھر اپنا ایس اولگواکراورمنتھلیاں لے کرعوام کو تھانہ وکچہریوں میں ذلیل وخوارکرواتے ہیں کہ یہ صرف ادھرہی رہیں اورسیانے نہ ہوں عوام کوصرف سالہا سال لڑائ جھگڑوں اورچوری ڈکیتی تک محدودرکھا جاتا ہے کہ اگریہ ترقی کرگئے توہمیں ووٹ کس نے دینا ہے پہلے ان کے یہ وعدے تھے کہ ترقیاتی کام ہونگے لیکن بعدمیں وہی عوام کے ساتھ سیاست کرتے ہیں ترقیاتی کام دینے کی بجائے انکی اپنی ترقی میں ہی رکاوٹ کا باعث بنتے ہیںآخرانکے حلقے میں چوری کروانے والا کون ??
پٹواری کے ہاتھوں ذلیل کروانے ولا کون ??
تحصیل دارکے ہاتھوں ذلیل کروانے والا کون ??
ایس ایچ اوسے ذلیل کروانے والا کون ??
کیا علاقے کی عوام نے صرف اسی وجہ سے ووٹ دیا تھا کہ صوبائ یا وفاق اسمبلی کا ممبربن کے اپنے ہی علاقے میں اپنی من پسند کا عملہ لگواکرعوام کو ذلیل کرنا تھا خدارا اس بات پہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ جس کے ووٹ کی پاور سے بنے ہیں اسی کے ساتھ بغاوت کرتے ہیں اسی کے ساتھ سیاست کرتے ہیںاورپھربڑے لوگ کہلواتے ہیں حالانکہ یہ چھوٹے کہلوانے کے حق دار ہی نہیںاپنے ڈیرے چمکانے کی خاطرعوام کے کام بھی نہ کرنا ۔۔باربار انکواپنے ڈیرے پہ بلانا اورپھرکام نہ کرنا متعلقہ عملے کوکام کا فون کرکے کہنا اورپھرپرسنلی روک دینا کہ اپنی مرضی کے پیسے لے کر کام کرنا قابل سوچ بات ہے جس کا ایک غریب کو پتا ہی نہیں ہوتا وہ اپنی سادگی پہ جاتا ہے انکو کیا پتا کہ یہ پھرہمارے ساتھ بھی سیاست کرے گا
خداراسیاست دان کو زیادہ پروٹوکول نہ دیں انکے ڈیروں پہ زیادہ نہ جایا کریں نوجوان نسل کو تعلیم کی طرف متوجہ دیں تب جاکر ہی کچھ نہ کچھ عوام کو عزت ملے گی
جیسے یہ سیاست دان پانچ سال آپ لوگوں کوذلیل وخوار کرتے ہیں اسی طرح جبھی یہ ووٹ مانگنے آئیں آپ بھی انکو اس سے زیادہ انتظارکروایا کریں اور دوانگلیوں سے سلام کریں انکے ساتھ بھی ویسی سیاست کریں جیسے وہ صوبائ یا قومی اسمبلی ممبر بن کر کیا کرتا تھا سیلیکشن کے وقت ایک اچھے اورپڑھے لکھے لیڈرکا انتخاب کریں جوکہ ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ آپ کے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچے اورآپ لوگوں کی عزت کرے آپ کے جائزکام ہوں
جیسے شاعر نے خوب کہا تھا
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدرکا ستارہ
ہم نے خود ہی ٹھیک ہونا ہے معاشرے میں نوجوان نسل کے ذریعے اچھے لیڈرکا انتخاب کرنا ہے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچے وہ صرف اورصرف پڑھے لکھے معاشرے میں ہی انتخاب کیا جاسکتا ہے اور پڑھے لکھے نوجوان ہی اسکا انتخاب کرسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں