Nawaz-ud-Din Siddiqui said that when he came to Mumbai, he jokingly wrote about himself on social media, "What will happen to you, Kalia 63

نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ جب وہ ممبئی آئے تھے تو سوشل میڈیا پر انھوں نے اپنے بارے میں مذاق میں لکھا تھا کہ “تیرا کیا ہو گا کالیا”

نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ جب وہ ممبئی آئے تھے تو سوشل میڈیا پر انھوں نے اپنے بارے میں مذاق میں لکھا تھا کہ “تیرا کیا ہو گا کالیا”

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ)

ہماری انڈسٹری میں اقربا پروری نہیں بلکہ نسل پرستی ایک بڑا مسئلہ ہے۔مجھے کئی برسوں تک اس لیے مسترد کیا جاتا رہا،کیونکہ میری رنگت سانولی ہے ،میں رنگ کی بنیاد پر ہونے والی تفریق کے خلاف ہمیشہ سے ہی لڑتا آیا ہوں۔ایمی ایوارڈز کے لیے نوازالدین صدیقی نامزد کیا گیا تھا۔یہ بات اداکار نواز الدین صدیقی نے ویب سائٹ بالی وڈ ہنگامہ کے فریدون شہریار کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔
نواز الدین صدیقی کو اپنی فلم “سیریس مین” میں بہترین اداکاری کے لیے ایمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ “سیریس مین”گذشتہ برس نیٹ فلِکس پر ریلیز ہوئی تھی جس کے ہدایتکار سدھیر مشرا ہیں۔ اس فلم کی کہانی ایک باپ بیٹے کے گرد گھومتی ہے۔
نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ جب وہ ممبئی آئے تھے تو سوشل میڈیا پر انھوں نے اپنے بارے میں مذاق میں لکھا تھا کہ ’تیرا کیا ہو گا کالیا۔
انھوں نے کہا کہ ایسے بہت سے باصلاحیت فنکار ہیں جو اپنی رنگت یا قد چھوٹا ہونے کے سبب پیچھے رہ جاتے ہیں تاہم نوازالدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم نے انھیں اور بہت سے فنکاروں اور ہدایت کاروں کو آگے بڑھنے اور کام کرنے کا موقع دیا اور ان جیسے آرٹسٹ کو اپنا ٹیلنٹ پوری دنیا کو دکھانے کا موقع دیا چاہے وہ “سیکرڈ گیمز”ہو، “رات اکیلی”یا پھر “سیریس مین”
نوازالدین صدیقی کا کہنا ہے کہ انھیں فارمولہ فلموں سے مسئلہ ہے جس میں ایک خوبصورت ہیرو اور ایک خوبصورت ہیروئن والا گھسا پِٹا فارمولہ ہو اور کہانی یا کونٹینٹ نہ ہونے کے برابر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں