لیپہ، ہٹیاں بالا ( )پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اسمبلی شوکت جاوید میر نے حکومت آزاد کشمیر کو تحصیل لیپہ کے گاؤں نکوٹ میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث زرعی زمینیں، مکانات، دکانیں، فصلوں، انفراسٹریکچر کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی تعمیر نو اور متاثرین کی آباد کاری کیلئے 9 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا، 103

لیپہ، ہٹیاں بالا ( )پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اسمبلی شوکت جاوید میر نے حکومت آزاد کشمیر کو تحصیل لیپہ کے گاؤں نکوٹ میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث زرعی زمینیں، مکانات، دکانیں، فصلوں، انفراسٹریکچر کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی تعمیر نو اور متاثرین کی آباد کاری کیلئے 9 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا،

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

(1)نکوٹ دوسری بار آفات سماوی کی وجہ سے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے آفت زدہ علاقہ قرار دینا، (2)سیلابی ریلے میں ہونے والے نقصانات کا مہنگائی کے تناسب سے فوری یکمشت معاوضہ، (3)مفت لکڑی، جستی چادروں کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور حفاظتی بند کے لئے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز مختص کرنا، (4)متاثرہ خاندانوں کی باوقار امداد کیلئے سرکاری ملازمت، (5)سیلابی ریلے آنے کی وجوہات اور اس کے تدارک کے لئے جیالو جیکل سروے (6)مفت غلہ،طبی سہولیات،(7)وفاقی حکومت کے زیر اہتمام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے بلا تخصیص مالی معاونت کا متفقہ پرزور مطالبہ کردیا،گزشتہ روز وادی لیپہ کرناہ کے موضع نوکوٹ میں سیلابی ریلہ آنے سے املاک اور زرعی اراضی اور تیار شدہ فصلوں کو پہنچنے والے بے تحاشہ نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ وزیراعظم عبدالقیوم نیازی، وزیر تعلیم دیوان علی خان چغتائی کا مشکل کی اس گھڑی میں ہنگامی دورہ کرکے عوام کی دلجوئی اور انکی داد رسی نہ کرنے سے خود انھیں سیلابی ریلے سے بڑے سیاسی ریلے کا سامنا ہے، یہ وقت انسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرنا ہے لیکن یہ بنیادی فرائض اور ذمہ داری حکومت آزاد کشمیر کی ہے جس میں ابھی تک وہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، پسند نہ پسند کی بناء پر فائلیں مرتب ہونے کے الزامات کا فوری نوٹس لیا جائے، حق داروں کو انکا حق دینے میں انصاف کے تقاضے پورا کرنا از بس ضروری ہے، شوکت جاوید میر نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر آئندہ کابینہ کے اجلاس میں آفات سماوی،حادثات کے معاوضہ جات میں 100 فیصد عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اضافہ کیاجائے، وزیراعظم عبدالقیوم نیازی اور وزراء کرام کا دورہ لیپہ رکھنے کے لئے وزیرتعلیم دیوان علی خان چغتائی اپنی ساری توجہ مرکوز کریں، وہ اپنے استقبال کو کچھ دن کے لئے موخر کرکے عوام کو درپیش آنے والے وبال کی چارہ گری کریں، ہماری ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ تنقید کے بجائے تجاویز دے کر مخلوق خدا کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں لیکن بعض لوگوں نے ہر اچھے عمل میں بھی کیڑے نکال کر دھڑے بندی، مخالفت برائے مخالفت، خوش آمد کے ذریعے قربت داری حاصل کرنے کا نصف صدی سے ٹینڈر بھرا ہوا ہے جسے عوام بخوبی جانتے ہیں، یہ وقت نوکوٹ کے عوام کو درپیش مسائل سے نکالنے کا ہے نہ کہ تنہا چھوڑنے کا، ایک سوال کے جواب میں شوکت جاوید میر نے کہا کہ حلقہ ایل اے 33 سات لیپہ ویلی کی تعمیر وترقی اور اچھے طرز حکمرانی کے لئے پیپلزپارٹی اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے کوئی رکاؤٹ نہیں ڈالی جائے گی، لیکن انتقامی کلچر کو فروغ دے کر پالشیوں، مالشیوں، ابن الوقتوں، سیاسی مسافروں، سکیم خوروں، مفت خوروں کو خوش کرنے کے لئے وزیر تعلیم اپنی ساکھ کو کبھی داؤ پر نہ لگائیں، کیونکہ اقتدار سدا کسی ایک کے پاس نہیں رہتا، یہ آنے اور جانے والی چیز ہے البتہ عزت و قار ہمیشہ انسان کا اصل اثاثہ ہوتا ہے، انھوں نے کہا کہ نوکوٹ دوسری بار آنے والے سیلابی ریلے میں قیمتی انسانی جانوں کو تحفظ دے کر محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں بہادر افواج پاکستان کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا، کیونکہ مین بازار آتش زدگی سے لیکر بھارتی گولہ باری اور سردیوں کی برف باری، حادثات میں افواج پاکستان نے انسانی جذبوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے جس کے لئے ہم چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ٹین کور،12 ڈب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ًٓکمانڈنگ آفیسر 75 برگیڈ سید اختر علی شاہ اور انکی پوری ٹیم کو خراج تحسین ہے جنہوں نے سیاحت اور کھیلوں کے فروغ، عوام اور اداروں میں اعتماد سازی کی فضاء قائم کرکے دفاعی، ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی اداروں کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سیاسی امور کی چیئرپرسن محترمہ فریال تالپور، پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین، قائد حزب اختلاف چوہدری لطیف اکبر کی قیادت میں ایوان کے اندر اور باہر قومی وقار، عوامی مفاد کی جنگ لڑتی رہے گی یہی قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو، دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو کا عوام دوست فلسفہ سیاست ہے جس کے لئے ہمہ وقت ہماری جدوجہد تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں