Aryan Khan, son of Bollywood king Shah Rukh Khan 34

انڈین سوشل میڈیا پر شاہ رخ خان کو غدار قرار دے رہے ہیں

انڈین سوشل میڈیا پر شاہ رخ خان سے متعلقہ برانڈز کے بائیکاٹ کی اپیلیں، کوئی ان کو غدار قرار دے رہا ہے تو کوئی ان کو مسلم سپر سٹار قرار دے رہا ہے۔شاہ رخ خان آخر کون سے برانڈز کے مالک ہیں اور گذشتہ کچھ عرصے سے ان پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آرین کی گرفتاری کی دستاویزات کے مطابق ان سے ملنے والی منشیات کی مقدار اتنی کم تھی کہ انھیں حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ آرین کے وکیل ستیش مانشندے نے سختی سے اپنے مؤکل پر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔
انڈیا کے سپر سٹار اور بالی وڈ کے ’کِنگ‘ کہلائے جانے والے اداکار شاہ رخ خان گذشتہ ایک ہفتے سے شہ سرخیوں میں ہیں اور اس کی وجہ اُن کے بیٹے آرین خان ہیں جن پر ایک ریو پارٹی میں منشیات کے مبینہ استعمال کا الزام ہے اور فی الحال وہ زیر حراست ہیں۔
جب سے یہ معاملہ سامنے آیا ہے اُس دن سے جہاں آرین خان انڈین سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتے نظر آ رہے ہیں وہیں کسی نہ کسی صورت میں شاہ رخ خان اور بالی وڈ میں منشیات کے استعمال کا ذکر بھی در آتا ہے۔
تاہم گذشتہ 24 گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر آرین خان ٹرینڈ میں ہیں یا نہیں، شاہ رخ خان پر بیک وقت کئی ٹرینڈز گردش کر رہے ہیں۔
بائیکاٹ ایس آر کے ریلیٹڈ برانڈز یعنی شاہ رخ خان سے متعلق برانڈز کا بائیکاٹ ہو یا ایون مودی نیڈز برانڈ ایس آر کے یعنی مودی کو بھی شاہ رخ خان کے برانڈ کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ شاہ رخ خان “مسلم سپرسٹار” شاہ رخ خان غدار ہے وغیرہ جیسے بھانت بھانت کے ٹرینڈز ہیں اور ان پر صارفین کے ردعمل۔
شاہ رخ کے چند مداحوں کا ماننا ہے کہ آرین خان کا مسئلہ صرف اس لیے میڈیا پر اچھالا جا رہا ہے تاکہ گذشتہ دنوں گجرات کی بندر گاہ سے پکڑی جانے والی تین ہزار کلو گرام منشیات سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ گجرات کی ایک بندرگاہ سے ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی ہیروئن پکڑی گئی تھی اور اس بندرگاہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے قریب کہے جانے والے بڑے تجارتی گروپ “اڈانی گروپ” کے زیر نگرانی چلتی ہے۔حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ معاملہ کوئی بھی ہو انڈین سوشل میڈیا پر وہ مذہبی رنگ میں رنگ دیا جاتا ہے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اور جہاں تک شاہ رخ خان کی بات ہے تو سنہ 2015 میں جب سے انھوں نے انڈیا میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کی بات کی تھی اُس وقت سے وہ ملک میں ہندوتوا کے علمبردار ایک بڑے طبقے کے نشانے پر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں