زندہ جانوروں کی بر آمد پر پابندی کے پاکستان کو نقصان 164

زندہ جانوروں کی بر آمد پر پابندی کے پاکستان کو نقصان

تحریر: ام سلمیٰ

پاکستان کی معیشت میں جس طرح زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح لائیو اسٹاک کا معیشت اور برآمدات میں ایک اہم مقام ہو سکتا ہے

9 سال قبل کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 31 جولائی 2013ء کو زندہ جانوروں کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی۔ ملک سے گوشت کی مسلسل برآمد اور جانور پالنے والے کسانوں کو زندہ جانوروں کی قیمت نہ ملنے کی وجہ سے کسانوں نے جانور پالنا چھوڑ دیئے ہیں۔

گورمنٹ کو چائیے اس زریعے سے معشیت کو اٹھانے کے لیے اس شعبہ پے توجو دی جائے اور زندہ جانوروں کی برآمد سے عائد پابندی ختم کی جائے کیونکہ زندہ جانوروں کی برآمد سے کسانوں کو جانوروں کی اچھی قیمتیں ملیں گی اور ان کی جانور پالنے میں دلچسپی بڑھے گی۔اور ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا

گزشتہ(ن) لیگ حکومت کی غلط پالیسی کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ گزشتہ 9 سال سے زندہ مویشی برآمد پر پابندی سے جانور پالنے والے کسانوں کے جو حوصلے پست ہوئے ہیں اور قصائیوں نے جو نقصان کیا ہے آپ برآمد پر پابندی ہٹا کر لائیو اسٹاک کے شعبہ میں دوبارہ جان ڈال سکتے ہیں۔

یہ ناجائز دلیل قابل ذکر ہے کہ پاکستان سے زندہ جانور کی برآمد سے پاکستان میں نسل کی معدومی کے خطرات کے نا معقول جواز وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے افسران اسمگلنگ مافیا کو کالا دھن بنانے اور ان کو موقع فراہم کرنے والوں کو رشوت کی صورت میں وصول کرکے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رھے ھیں۔ صومالیہ خود قحط زدہ ہو کر اور پاکستان کے زندہ جانور کی برآمد پر عائد پابندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام خلیجی ممالک کی زندہ جانوروں کی کمی کو گزشتہ 9 مسلسل سالوں سے پوری کر رہا ہے اس کے علاوہ اب سوڈان، آسٹریلیا، کینیا اور کئ ممالک زندہ جانور برآمد کرکے بلین ڈالرز کما رہے ہیں اور ان غیر زرعی ممالک میں آج تک زندہ جانور کی نسل معدومی کا خطرہ دور دور تک لاحق نہیں ھوا۔
‏‎‎عرب ممالک میں زندہ جانور کی طلب بہت ھے۔ قصائی اور ذخیرہ اندوز کسان کو پوری قیمت ادا نہیں کرتے ھماری دولت اسمگلنگ مافیا لوٹ رھاھے حکومت اور کسانوں کا معاشی استحصال کر رھے۔
گورمنٹ مادہ جانوروں کو ذبح کرنے اور برآمد پر فوری پابندی لگا ئے تاکہ ملک میں جانوروں کی افزائش ہو اور جانوروں کی ہونے والی مصنوعی قلت پر پھر بھی قابو پایا جا سکے۔

پاکستان کی زرعی معیشت میں لائیو اسٹاک بنیادی ستون ھے۔ ملک کی آبادی کا تقریبا 70% خاندان بالواسطہ یا بلا واسطہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے ساتھ منسلک ھے۔ لائیو اسٹاک ملک کے کسان اور جانور پال لوگوں کیلیے انتہائی اہمیت کا حامل اسلیئے ھے کہ بوقت ضرورت مارکیٹ میں فروخت کرکے حاصل شدہ رقم سے نئ فصل لگانے کیلیے بیج کھاد یا زرعی سامان خریدا جاتا ہے یا کوئی بھی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ پاکستان میں لائیو اسٹاک کے مرکز غیر ترقی یافتہ اضلاع تقریبا پورا جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں تھرپارکر سرفہرست ہیں۔ بلوچستان کا لائیو اسٹاک کی پیداوار 40% حصہ کے ساتھ سرفہرست ہے اور ملکی معیشت میں ٹوٹل لائیو اسٹاک کی شراکت تقریبا 58% ہے جو پوری دنیا میں بےمثال ہے یہ اللہ کا کرم ان غریب مویشی پالنے والوں پر ہے جن کی محنت کےثمر سے پاکستان دنیا میں بھترین مویشی کی دولت سے مالا مال ہے۔ کیونکہ یورپ،امریکہ، آسٹریلیا کے لائیو اسٹاک انکی ملکی معیشت میں شراکت بمشکل40% تک ہے۔ اس تناظر میں 9 سال سے مویشی برآمد پر عائد پابندی مویشی پالنے اور کسانوں کا معاشی استحصال کے مترادف ہے زندہ مویشی برآمد پر عائد پابندی کا فائدہ زندہ جانوروں کی اسمگلنگ میں ملوث چند عناصر اور وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کا وہ ملوث عملہ جو بھتہ خوری کرکےاپنےکالے دھن میں اضافہ کرکے حکومت اور کسانوں کا معاشی قتل کر رہے ہیں ۔

ایران، افغانستان، عمان ، کویت ، سعودی عرب، بحرین، قطراور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر قریبی خلیجی ممالک زندہ جانوروں کی خریداری میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ پابندی کی وجہ سے زندہ جانوروں کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس چیز پے فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
تاکہ لائیو اسٹاک کی برآمدات معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں