Allama Iqbal Day Mushaira 90

یوم علامہ اقبالؒ مشاعرہ

بحرین رپورٹ (خرم عباسی سے)

فکر بلند و ذوقِ تماشا کہاں سے لائیں
اقبالؒ جیسی زندہ تمنا کہاں سے لائیں

گزشتہ شب پاکستان کلب بحرین نے بیسویں صدی کے معروف شاعر، محقق، مفکر، مصنف اور قانون داں مفکر پاکستان ،حکیم الامت ،شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے یوم پیدائش کی مناسبت سےمنامہ بحرین میں ایک پرشکوہ تقریب کا اہتمام کیا ۔
“قوم کی قسمت اس کے ایک ایک فردکے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ہمارا المیہ یہ کہ ہم اقبال کو صرف ماہِ نومبر میں ذوق و شوق سے یاد کرتے ہیں،ہمیں انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اقبال کی تعلیمات سے سبق حاصل کرنا چاہیے”۔(جسٹس(ر)ناصرہ جاوید اقبال)

پاکستان کلب بحرین کے زیر اہتمام ڈاکٹر عبدلقدیر خان ہال میں منعقد اس مشاعرہ میں مسند صدارت پر محترم قبلہ رخسار ناظم آبادی صاحب جلوہ افروز تھے – نشست کا آغاز روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت پاکستان کلب ایگزیکٹو بورڈ کے سرگرم رکن محترم محمد شبیر نے حاصل کی.تلاوتِ قرآن کے بعد،چیئرمین پاکستان کلب جناب ریحان احمد نے مہمان شعراء کرام و حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ قومی دن منانے اور قومی مشاہیر کی یاد میں تقریبات منعقد کرنے سے بیرون ملک پاکستانیوںکا پاکستان کے ساتھ تعلق مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے،استقبالیہ کلمات کے بعد خاکسار نےمحترم افتخار عارف کے کلام ( نذرِ اقبالؒ) سے شاعر مشرق کو خراج عقیدت پیش کیا۔

نذرِ اقبالؒ

فکر بلند و ذوقِ تماشا کہاں سے لائیں
اقبالؒ جیسی زندہ تمنا کہاں سے لائیں

زندانیانِ شکوہ و ماتم کے روبرو
بانگِ درا کی وضع کا مژدہ کہاں سے لائیں

دنیا بدل رہی ہے زمانے کے ساتھ ساتھ
اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

زرخیزیِ ہنر بھی ہے مشروط نم کے ساتھ
دل سنگ ہوں تو شورشِ گریہ کہاں سے لائیں

خوابِ گزشتگان محبت کے ذکر کا
لپکا ہمیں بھی ہے پہ سلیقہ کہاں سے لائیں

اسلوب میں تمازتِ خورشید کیسے آئے
لہجے میں بے کناریِ صحرا کہاں سے لائیں

مخدوم مشترک ہیں مگر بزمِ خاص میں
ویسا مقام اُن کا سا رتبہ کہاں سے لائیں

اے شہرِ بے یقین کے موسم! جواب دے
فصلِ خزاں میں لالۂ تازہ کہاں سے لائیں

کہنے کو ہیں وراثتِ اقبالؒ کے امین
ہم کم نظر وہ دیدۂ بیناکہاں سے لائیں

مشاعرے میں بحرین کے شعراء کرام نے تازہ دم آواز ، نئے اسلوب اور جدید لب و لہجہ سے محفل کے باذوق سامعین کو مسحور کیا۔ ان تخلیق کاروں کی شاعری میں جدت شدّت سے محسوس کی جاسکتی تھی۔ شعرائے کرام نے جدید افکاراور منفرد انداز بیان میں کلام پیش کرتے ہوئے بحرین میں مشاعرے کی روایت میں ایک نیا باب وا کیا۔جن شعراء کرام نے اپنی تخلیقات پیش کیں ان کے اسمائے گرامی ہیں محترم رخسار ناظم آبادی ،محترم احمد عادل ،محترم طاہر عظیم،محترم ریاض شاہد، محترم اقبال طارق ،محترم سعید سعدی اور محترم اسد اقبال ۔پروگرام کی نظامت کے فرائض خاکسار نے انجام دیے۔
یہ تاریخ ساز ’مشاعرہ اپنی گہری چھاپ چھوڑتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس مشاعرے کی عظیم الشان کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شعرائے کرام نے نہایت ہی عمدہ،معیاری اور نفیس کلام پیش کیا اور با ذوق حاضرین کی ایک کثیر تعداد نے خوب داد و تحسین نچھاورکی-مشاعرے میں پاکستان کلب بحرین ایگزیکٹو بورڈ کے ممبران کے علاوہ بحرین کی سیاسی، سماجی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی.تقریب کے اختتام سے قبل چیئرمین پاکستان کلب جناب ریحان احمد نے صدر مشاعرہ، شعراء کرام، اور آنے والے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
مشاعرے میں پیش کئے گئے شعرائے کرام کے کلام سے اقتباس نذرِ قارئین:

یہ دنیاوی نظامِ وقت بھی کیا
فقط چوبیس گھنٹے ہیں گھڑی میں

یہاں پہنچے تو خالی ہاتھ تھے ہم
یہی ہونا ہے آخر واپسی میں
رخسار ناظم آبادی
———————————–
اپنے اشکوں سےحزیمت کو رقم کرنے وہ
قرطبہ کے درو دیوارِ فغاں تک آیا

وہ ولی تھا نہ ہی واعظ نہ مبلغ لیکن
اپنے اشعار میں تفسیرِ قراں تک آیا
احمد عادل
————————————-
ایک صف میں شجر لگے ہوے ہیں
ہم بھی اک شاخ پر لگے ہوے ہیں

جتنا افسوس کیجئے کم ہے
وقت کو جیسے پر لگے ہوے ہیں
طاہر عظیم
——————————–
یقیں کی صورتِ دیگر ہے وصل ہی ورنہ
ترا فراق مجھے امتحان لگتا ہے

گزشتہ شب پڑھا اک شعر قیس کا میں نے
وہ شعر مجھ کو مرا ترجمان لگتا ہے
ریاض شاہد
—————————————-
تیرے شانوں کے ستاروں کی طرف دیکھتاہوں
توکبھی جلتے چناروں کی طرف دیکھتاہوں

میرے سینے میں دہکتے ہیں جہنم مولا
جب میں ان زندہ مزاروں کی طرف دیکھتاہوں
اقبال طارق
———————————–
آج ملا تو پوچھ رہا تھا
کیا اب بھی کچھ ہو سکتا ہے

اس نے کنُ کہنا ہے سعدی
سوچو کیا کیا ہو سکتا ہے
سعید سعدی
———————————-
حاکمِ عالَم ہوں مومن ایک ہو جائیں اگر
“نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کاشغر”

جب ہوئے غافل مُسلماں خاک میں روندے گئے
سوچیے تاریخ سے کس نے یہ سیکھا ہے مگر
اسد اقبال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں