جغرافیائی و سیاسی سوچ سے بالاتر ہو کر افغانستان کی تعمیر نو کی ضرورت ہے، تمام ذمہ دار ممالک ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں،اس موقع سے استفادہ کر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے جس میں مستحکم اور پرامن افغانستان خطے کی حقیقی استعداد کو بروئے کار لانے میں ہمارا معاون ہو،افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کیلئے دنیا کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 86

جغرافیائی و سیاسی سوچ سے بالاتر ہو کر افغانستان کی تعمیر نو کی ضرورت ہے، تمام ذمہ دار ممالک ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں،اس موقع سے استفادہ کر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے جس میں مستحکم اور پرامن افغانستان خطے کی حقیقی استعداد کو بروئے کار لانے میں ہمارا معاون ہو،افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کیلئے دنیا کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

پیر کو خلیج ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں وزیر خارجہ نے کہا کہ کئی دہائیوں تک مصائب کے بعد ، افغانستان ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں یا تو وہ بالآخر تنازعات اور عدم استحکام کے سلسلے سے نجات حاصل کر سکتا ہے یا پھر بطور ریاست ناکامی کی طرف جا سکتا ہے جس سے افغان عوام کے لئے مزید ناقابل برداشت مصائب پیدا ہوں گے اور پورا خطہ متاثر ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال سے پاکستان کو بھی بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود ہم ثابت قدم رہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ قریبی ہمسایہ کی حیثیت سے ہم اس سے لاتعلق رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں اپنا سفارتخانہ اور قونصل خانہ کھلا رکھا ہے جبکہ ہماری قومی ایئرلائن پی آئی اے نے سفارتی مشنز ، بین الاقوامی تنظیموں ، آئی این جی اوز اور میڈیا اداروں کے اہلکاروں کےانخلا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے بحران ، اس میں شدت یا اس کے تسلسل میں پاکستان کا کوئی کردارنہیں رہا ،البتہ ہم نے ہمیشہ جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے میں مدد کی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سپائیلرز پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں استحکام کے عمل کو روکنے سے گریز کریں۔افغانستا ن بری طرح مجروح ہے جسے سرد مہری نہیں بلکہ مرہم کی ضرورت ہے۔سائبر پلیٹ فارمز کا غلط استعمال اور عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے لئے بے بنیاد الزامات کو ہوا دے کر دنیا کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری معاشی اور انسانی تباہی سے بچنے میں افغانستان کی مدد کرے۔ ماضی کے ایسے افسوسناک واقعات کو نہ دہرایا جائے جنہوں نے افغان معاشرے میں تقسیم کو مزید گہرا کیا اور فوجی کارروائی ، بدانتظامی ، بدعنوانی اور مغربی ٹیکس دہندگان کے رقوم کے ضیاع کی وجہ سے صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے نظم و نسق کے حوالے سے ہم یہ کہتے ہیں کہ حقیقی مفاہمت کو فروغ دیا جائے اور ایسا اسلوب حکمرانی اختیار کیا جائے جس سے کسی نسل یا صنف اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہ کرے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ، پاکستان نے نہ صرف امن کے عمل کے لئے سہولت کاری کی بلکہ افغانستان کے بارے میں علاقائی نکتہ نظر تشکیل دینے کے لئے بھی کوششیں کر رہا ہے، ہم نے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ افغانستان کے تمام سیاسی دھڑوں سے بھی رابطہ کیا ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی طاقتوں پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الافغان مفاہمت کو فروغ دینے کے لئے حقیقی کوششوں پر توجہ د یں ، افغان عوام دہائیوں کے تنازعات سے تنگ آ چکے ہیں، اس صورتحال سے افغانستان کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والا ملک ہے، ہم ایک پرامن اور خوشحال خطہ چاہتے ہیں جو بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کو تقویت دے۔
اس سے ہمارے باہمی رابطے کے ایجنڈے کے حصول میں بھی مدد ملے گی جو علاقائی اقتصادی انضمام کا باعث بنے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی فیاضانہ مدد سے معاشی اور پناہ گزینوں کے بحران کو روکنے میں مدد ملے گی، اس مرحلے پر مالیاتی قدغنیں عام افغانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کریں گی ، ہمیں ان کا گلا گھونٹنے کی بجائے ان کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھانا چاہئے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آئیں جغرافیائی و سیاسی سوچ سے بالاتر ہو کر افغانستان کے درد اور تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان تمام ذمہ دار ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور انہیں دہرائے جانے کی اجازت نہ دیں۔آئیں ہم اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے ایک نئے دور کا آغاز کریں جہاں ایک مستحکم اور پرامن افغانستان خطے کی حقیقی استعداد کو بروئے کار لانے میں ہمارا معاون ہو
#Pakistan 🇵🇰 #AfghanistanCrisis

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں