پاکستان جرمنی سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب 85

پاکستان جرمنی سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب

(سٹاف رپورٹ،تازہ اخبار،پاک نیوز پوائنٹ )

معزز اراکین پارلیمنٹ ،معزز خواتین و حضرات مجھے پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ اس تقریب کی میزبانی کر کے خوشی محسوس ہو رہی ہے 1951 سے پاکستان اور جرمنی نے سفارتی تعلقات کا طویل سفر طے کیا ہے پاکستان جرمنی کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے پہلے ایشیائی ممالک میں شامل تھا۔پاکستان اور جرمنی کے مابین دیرینہ، طویل المدتی گہرے تعلقات ہیں درحقیقت ہمارے باہمی تعلقات جمہوریت ، تنوع ، امن اور سلامتی کی مشترکہ اقدار سے وابستہ ہیں۔پاکستان اور جرمنی کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط ، پارلیمانی تبادلے اور عوام سے عوام کے رابطے بڑھ رہے ہیں۔ہمارا اسٹریٹجک ڈائیلاگ گزشتہ سال منعقد ہوا۔مجھے اس سال جرمنی جانے کا موقع ملا یہ کوویڈ وبا کے دوران کسی یورپی ملک کا میرا پہلا دورہ تھا۔وزیر خارجہ ماس نے رواں سال اپریل اور اگست میں دو بار پاکستان کا دورہ کیا۔
اس سے ہمارے دوطرفہ تعلقات کے استحکام ، علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے مل کر کام کرنے کے حوالے سے ہمارے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔
پاکستان اپنی توجہ معاشی ترجیحات پر مرکوز کیے ہوئے ہے
پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری اور کاروبار میں آسانی کے انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی میں اضافہ ، جرمن سرمایہ کاروں کے لیے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ جرمنی پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔دواسازی سے لے کر کارسازی کے شعبے تک، کئی جرمن کمپنیاں پاکستان میں مصروف عمل ہیں ان میں سے بہت سی کمپنیوں کے نمائندگان کو آج یہاں دیکھ کر مجھے خوشی محسوس ہوئی۔مزید یہ کہ پاکستان کے جرمنی کیساتھ ثقافتی تعلقات ہمارے رسمی دو طرفہ تعلقات سے بھی قدیم ہیں ہمارے قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے ایک صدی قبل ہیڈلبرگ اور میونخ میں تعلیم حاصل کی۔ڈاکٹر اقبال رح جرمن ثقافت اور عوام کے معترف تھے اقبال کا پیغام ” (پیام مشرق)” گوئٹے کے دیوان کو خراج تحسین اور دوستانہ جواب کے طور پر لکھا گیا تھا۔ہمارے دو عظیم شعراء نے مشرق اور مغرب کے مکالمے کے آغاز اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ٹھوس بنیاد کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا پاکستان 70 سالہ سفارتی تعلقات کی سالگرہ کے موقع پر ان دونوں عظیم ہیروز اقبال رح اور گوئٹے کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے لیے ڈاک ٹکٹ جاری کرے گا ثقافتی لحاظ سے ، گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کراچی اور اس سے وابستہ اینمیری شمیل ہاؤس لاہور نے ہمارے مشترکہ ثقافتی پیغام کو پھیلانے اور دونوں ممالک کو قریب لانے میں قابل تحسین کردار ادا کیا جذام کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پاکستانی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کا مثالی کام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انسانیت حدود و قیود سے بالاتر ہے جرمنی میں مقیم پاکستانی مختلف شعبہ جات میں اہم اور مثبت کردار ادا کرتے ہوئے جرمنی کی معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پاکستانی طلباء اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جرمنی کو ترجیح دیتے ہیں میں اس موقع پر جرمنی میں پاکستانی نژاد ان عظیم خواتین و حضرات میں سے کچھ کا ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے اپنے شعبوں میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر آصفہ اختر ، میکس پلانک سوسائٹی میں حیاتیات اور طب کے شعبے کی پہلی بین الاقوامی خاتون نائب صدر ہیں ، جو کہ لیبنیز اعزاز حاصل کر چکی ہیں ۔جرمنی میں مقیم معروف معمار، اسد یار خان نے بزرگ شہریوں کے لیے رہائش گاہوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ۔ حال ہی میں مصباح خان ، جرمن وفاقی پارلیمنٹ کے لیے بطور پارٹی امیدوار منظر عام پر آئیں آج کی یہ تقریب پاکستان اور جرمنی کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاس ہے۔مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ پاکستان جلد اس 70 سالہ تاریخی سفارتی تعلقات کے حوالے سے سے ایک یادگاری سکہ جاری کرے گا۔آج کی اس تقریب میں شمولیت پر میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ میں اس موقع پر پاکستان اور جرمنی کے قومی ترانے متاثر کن انداز میں پیش کرنے پر “روٹس انٹرنیشنل سکول” کے ذیلی ادارے “ملینیم ایجوکیشن” کے اسکول کے طلباء کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا میں، ہنزہ سکول آف میوزک کے لیف لارسن میوزک سینٹر کے طلباء کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے شاندار پرفارمنسز دیں
میں گل احمد گروپ کے چیئرمین بشیر علی محمد کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے آج کی تقریب کے انعقاد میں ہماری معاونت کی
آخر میں ، میں فارن سروس اکیڈمی کو سولر پینلز کی فراہمی پر جرمن ایمبیسی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں سولر پینلز کا یہ تحفہ جرمنی کی ماحول دوستی کا ثبوت ہے اور وزیر اعظم عمران خان کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں